اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک میں قائم امریکی یونیورسٹی کے مرکزی دفتر سے منسلک لبنان کے بیبلوس کیمپس میں مسلمان طلبہ کو نماز کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں کیمپس کے اندر نماز پڑھنے سے روکا جارہا ہے۔
نماز کے لیے مناسب جگہ کی عدم دستیابی نے لبنان میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلمان طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔
بیبلوس، جسے جبیل بھی کہا جاتا ہے، بیروت کے شمال میں واقع ایک شہر ہے جہاں اکثریت عیسائی آبادی کی ہے، تاہم امریکی یونیورسٹی کے اس کیمپس میں سینکڑوں مسلمان طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں۔
طلبہ کے مطابق یونیورسٹی نے نہ صرف مسلمان طلبہ کو کیمپس میں نماز ادا کرنے سے روک دیا ہے بلکہ ان جگہوں کو بھی بند کردیا گیا ہے جہاں ماضی میں طلبہ نماز ادا کرتے تھے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے قریب پیدل فاصلے پر کوئی مسجد بھی موجود نہیں، جبکہ دوسری مساجد تک پہنچنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کیمپس میں نماز کے لیے جگہ کی فراہمی ان کے لیے اہم ہے۔
نماز کے لیے متبادل جگہ بھی بند
طلبہ کے مطابق نماز کے لیے پہلے ایک غیر استعمال شدہ ڈریسنگ روم میں جگہ بنائی گئی تھی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے بند کردیا۔
یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے، جس نے صرف اپنا پہلا نام سلیمان بتایا، عرب نیوز کو بتایا کہ طلبہ ایک غیر استعمال شدہ ڈریسنگ روم میں نماز ادا کرتے تھے، لیکن یونیورسٹی نے کہا کہ اس جگہ کو لیبارٹری میں تبدیل کیا جائے گا اور اسے بند کردیا گیا۔ تاہم بعد میں وہاں لیبارٹری بھی قائم نہیں کی گئی۔
سلیمان کے مطابق طلبہ نے انتظامیہ سے نماز کے لیے کوئی دوسری جگہ مختص کرنے کی درخواست کی، لیکن اس درخواست پر توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد طلبہ نے پارکنگ میں سیڑھیوں کے نیچے نماز پڑھنا شروع کردی، مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے وہاں بھی نماز ادا کرنے سے روک دیا۔
ایک طالب علم نے یونیورسٹی کے سربراہ چاؤکی عبداللہ سے نماز کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم طلبہ کو مبینہ طور پر کہا گیا کہ وہ اس درخواست کو مکمل طور پر بھول جائیں۔
300 طلبہ کی درخواست
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں تقریباً 300 طلبہ نے ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں جس میں یونیورسٹی انتظامیہ سے مسلمان طلبہ کے لیے نماز کی جگہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم سلیمان کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلمان طلبہ یونیورسٹی سے نکالے جانے کے خوف سے اس معاملے پر کھل کر بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔
مسلمان طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں کسی خصوصی رعایت کے بجائے صرف نماز کی ادائیگی کے لیے ایک مناسب اور محفوظ جگہ چاہتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ